01

Baab awwal

زوال
ازقلم: پریزہ گل
باب اوّل: غلط تعارف، غلط تاثر

اُس نے اندھیرے میں ایک اور قدم بڑھایا اور اپنے یخ ٹھنڈے پاؤں سے آگے کا راستہ ٹٹولا، یکدم اُس کے پاؤں سے کوئی چیز گزری۔ اُس نے نیچے دیکھا تو ستاروں کی روشنی میں ایک سیاہ رنگ کا سانپ اپنے زہر کی نمائش کرتا ہوا گزر گیا۔
وہ ٹھٹھکی، مگر سنبھل گئی۔۔۔ ستاروں کی روشنی اور واضح ہوگئی تھی، یوں لگ رہا تھا مانو سفید پریاں اُتر کر زمین کی اور آ رہی ہوں۔۔۔ اُس کی آنکھوں کی چمک میں اضافہ ہو چکا تھا۔

روشنی کے مدھم ہونے سے پہلے اُسے سب سے اونچائی تک جانا تھا، مگر وہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ آخر اُس کے نیچے جو زمین ہے وہ اتنی سخت کیوں تھی۔

وہ دونوں ایک فائیو اسٹار ریسٹورنٹ میں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں، تبھی اُن کا کھانا سرو کر دیا گیا تھا۔
بھوری آنکھوں والی وہ لڑکی، جس نے نفاست سے وِنگ آئی لائنر سے اپنی آنکھوں کی خوبصورتی اور روشنی بڑھائی تھی، اُس نے چُھری سے چکن برگر کے تمام چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیے۔

اُس کے سامنے بیٹھی سحر نے اُسے دیکھا اور مُسکرا دی۔۔۔ وہ لڑکی اب بھی اپنی پوری توجہ اُس برگر پر مرکوز کر کے بیٹھی تھی جیسے اُس سے ضروری کوئی کام دنیا میں ہو ہی نہ۔۔۔

جب اُس نے تمام ٹکڑے کر دیے تو یکدم آنکھوں کو بند کر لیا۔۔۔ سحر جانتی تھی وہ کیا کر رہی ہے۔

وہ کھانے سے پہلے دُعا کر رہی تھی، اور جب اُس کا پسندیدہ کھانا ہوا کرتا تھا تو وہ اور پُرجوش ہو کر لمبی دعا کرتی تھی۔۔۔
دعا پڑھ کر اُس نے اپنے نقاب کو ذرا سا اُٹھایا اور برگر کے چھوٹے ٹکڑوں میں سے ایک کھانے لگی۔۔۔
سحر جانتی تھی کہ اُس کی دوست اب کوئی لفظ مُنہ سے ادا نہیں کرے گی بلکہ برگر کا ذائقہ آنکھیں بند کر کے لے گی۔

اُس کی عادت تھی، جب بھی بہت ذائقہ دار کھانا کھاتی تو اپنی گردن کو پیچھے کر کے آنکھیں بند کر لیا کرتی۔


"شیان، میری ذرا سی بات مان لو اور ہامی بھر دو... وہ آئے گی تو تمہیں سیدھے راستے پہ لے جائے گی... بس اب شادی کر لو، چاہے ہماری پسند سے یا اپنی پسند سے۔"

ممی کا لہجہ نرم اور التجا والا تھا۔

"ممی، میرا من نہیں ہے... ابھی صحیح وقت آنے پر کر لوں گا۔ اور ویسے میں اتنا کیا بگڑا ہوا ہوں کہ کوئی لڑکی مجھے آ کر سیدھا کرے؟"

خدیجہ ماظر کے کانوں میں اپنے اکلوتے لاڈلے بیٹے کی دھیمی، پُروقار مگر شرارتی آواز گونجی تھی جو صرف کچھ ہی لوگوں کے سامنے اپنی یہ والی پرسنالٹی آشکار کرتا تھا۔

"تم نے کبھی ہماری بات نہیں مانی... اور ہم نے آج تک تم پر سختی نہیں کی... کیا ہم نے تمہارے کسی فیصلے یا چوائسز پر کبھی اعتراض کیا؟
یا کبھی تمہارے کیریئر کو اپنے طریقے سے موڑنے کی کوشش کی؟
اب اگر ایک چیز کرنے کو کہہ رہے ہیں تو تم وہ خوشی بھی نہیں دے سکتے؟"

انہوں نے خفا ہو کر کہا۔

"ممی، اگر آپ مجھے میری چوائس پر طعنہ دے رہی ہیں تو وہ تو میں آپ کے اعتراض کرنے کے باوجود بھی کرتا، اور کیریئر میں مداخلت تو کوئی بھی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ مجھے ہمیشہ سے ہی خود کے بزنس میں دلچسپی رہی ہے۔
اور اگر بات شادی کی ہے تو وہ میں آپ کو کچھ دنوں میں بتا دوں گا کیونکہ مجھے سوچنے کے لیے وقت چاہیے۔۔۔
میں ابھی ذہنی طور پر تیار نہیں ہوں کسی بڑے چینج کے لیے، ایٹ لیسٹ میں مینٹلی پریپیر تو ہو جاؤں۔"

اُس نے ممی کو ٹالنے کے لیے یہی ہتھکنڈا استعمال کیا۔
خدیجہ بیگم اپنے بیٹے سے واقف تھیں کہ اگر وہ کہہ رہا ہے، تو یعنی وہ ضرور کرے گا۔

*****

ممی کے چہرے پر اِطمینان نمایاں ہوا تھا اور وہ اُس کا ماتھا چوم کر وہاں سے چلی گئی تھیں۔
شیان اپنی ممی کی اِس حرکت پر پیار بھری مُسکراہٹ کے سوا کچھ نہ کر سکا۔

دُنیا میں ایسا کوئی نہیں تھا جو شیان مظہر کو قائل کر سکتا ہو۔۔۔ اُس کی فیملی خاصی لبرل تھی، مگر اُن کے یہاں یہ قابلِ اعتراض ضرور تھا کہ شیان ایک ایتھیئسٹ تھا۔
اس کے باوجود کہ اُس کے گھر کے سبھی فرد عملی مسلمان تھے۔۔۔
اگر وہ شیان نہ ہوتا، تو مظہر ملک اپنے اکلوتے بیٹے کا دہریہ (ایتھیئسٹ) ہونا کبھی قبول نہ کرتے۔
مگر جوان اولاد کو قائل کرنا، وہ بھی تب جب وہ سُننا ہی نہ چاہے، یہ ممکن نہیں ہوتا۔

زندگی کبھی بھی اتنی مہربان تو کسی پر بھی نہیں ہوتی۔۔۔
مگر شیان مظہر، زندگی اور اللہ دونوں سے بےحد خفا تھا۔

انسان کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ وہ دنیا میں آسائشوں کا مزہ اُٹھانے کے لیے بھیجا گیا ہے؟


یہ کہ ہر چیز اُسی کے مطابق ہوگی؟
یا پھر یہ کہ پوری دنیا خوش ہے، بس اُسی کے ساتھ برا ہو رہا ہے؟

انسان کا دنیا میں بھیجے جانے کا سبب تو یہی تھا کہ وہ آزمایا جائے، یا آزمائش بنے۔۔۔
پھر اپنے اعمال کے مطابق نوازا جائے۔
تو پھر جب اُسے دنیا کی چکاچوند آنکھوں کے پردے پر چھا جانے لگتی ہے،
تو وہ اپنے مقصد کو بھول جاتا ہے۔۔۔
اور سوچتا ہے کہ اُسے تو یہاں جینے کے لیے اُتارا گیا ہے۔

وہ تو امر ہے۔ اور حساب؟
وہ تو اُسے ہوگا ہی نہیں۔۔۔ کیونکہ اُس پر تو صرف ظلم ہوا ہے۔
اور حساب تو صرف ظالم سے ہوتا ہے۔۔۔ جو وہ ہے ہی نہیں!

وہ بھول جاتا ہے کہ زندگی تو اپنے آپ میں اللہ کی طرف سے ایک نعمت ہے۔
اللہ نے ہمیں زندگی دی تاکہ ہم اُس کی رحمت کا سامنا کر سکیں—
حالات میں، آزمائشوں میں۔

کیا تمہاری سانسیں رحمت نہیں ہیں؟
تمہارے اپنے—جو زندہ ہیں؟ حفاظت سے؟
یا وہ رزق جسے تم بھول سکتے ہو، مگر رزاق تمہیں دینا نہیں بھولتا!
یا ہر وہ چیز جو تمہیں آرام دے یا بے آرام کرے!
ہاں—بےآرامی ہی تو ہمیں سکون کی اہمیت کا تجربہ کراتی ہے۔

آزمائشیں ہی تو اللہ کی رحمتوں کا اندازہ اور طلب پیدا کرتی ہیں۔

تو ہم یہ کیوں سوچتے ہیں کہ ہمیں دنیا میں ہی جنت مل جائے گی؟

*****

اگر دنیا میں سب کچھ ہوتا
تو پھر جنت کا کیا فائدہ؟
اسی لیے جنہیں دنیا میں جنت مل جاتی ہے،
اُنہیں آخرت میں جہنم ہی چننا پڑتا ہے،
کیونکہ یہی اصول ہے—
جنت ایک ہی ہوگی:
یا تو وہ جو رب نے تیار کی ہے،
یا وہ جو تم نے دنیا کو مان کر خود بنائی ہے۔

شیان کو مذہب میں دلچسپی اس لیے نہیں ہوئی،
کیونکہ اُسے اصل مذہب سے آشکار ہی نہیں کیا گیا تھا۔
جب اُس کا اسلام سے تعارف ہوا،
تو اُس نے صرف منافقوں کو مسلمان بنتے اور گناہ کرتے دیکھا—
جیسے اللہ سے خفا ہونے کا اسے موقع چاہیے تھا۔
اُس کا دل تو پھر گیا تھا۔

ایک بات جو اہم ہے وہ یہ کہ:
غلط تعارف ہی غلط تاثر بنتا ہے۔

اللہ کا صحیح تعارف تو یہ انسان کبھی کرا ہی نہیں سکتا،
اور اسی لیے غلط تاثر پیدا ہو جاتا ہے۔
ہم انسان رب کا تعارف مانگنے اُس کی مخلوق کے پاس کیوں جاتے ہیں؟
اُس کے پاس ہی کیوں نہیں؟

کیونکہ اُس کی اتاری کتاب صرف ایک انسان کے لیے نہیں،
بلکہ جہان بھر کے لیے اتاری گئی ہے۔

بچوں کو بچپن سے سکھایا جاتا ہے—
"اگر یہ کرو گے تو اللہ مارے گا، وہ کرو گے تو اللہ ناراض ہو جائے گا۔"
اور اُن کے دماغ میں اللہ کو کسی ظالم رب کی شکل میں پیش کر دیا جاتا ہے۔۔۔
جو کہ اللہ ہے ہی نہیں!

اُنہیں یہ کیوں نہیں سکھاتے کہ اللہ رحم کرتا ہے، ماف بھی کرتا ہے،
محبت کرتا ہے، خیال بھی۔
مگر ہم اُنہیں بچپن سے ہی غلط تعارف دیتے ہیں،
اور اسی لیے غلط تاثر بھی۔

انسان اگر اپنا وجود یاد رکھے،
تو رب کو کبھی نہیں بھولتا۔
آخر رب کھو تو نہیں سکتا نا!

شاید زور زبردستی سے بھی وہ کب تک اسلام کو مانتا،
جب اسلام اُس کے دل میں اُتارا ہی نہیں گیا تھا؟
اُس نے اسلام کے نام پر صرف مذہبی دِکھنے والے منافق لوگوں کو دیکھا تھا۔

اُس نے اپنا وقار کھو دیا تھا، عزت گنوا دی تھی۔۔۔
وہ لوگ جو اسلام کا حوالہ دے کر اپنے عیب چھپاتے تھے—
مگر یہ تو اسلام نہیں تھا!
یہ تو وہ لوگ تھے،
جو مذہب پر چلنے والے نہیں تھے،
بلکہ مذہب کو اپنے حساب سے چلانے والے تھے۔

کیونکہ اگر کوئی گناہگار خدا اور دین کو الزام دیتا ہے،
تو قصور اُس کا ہے
نہ کہ خدا کا، نہ دین کا۔

خامیاں غفور میں نہیں، اُس کے گناہگار بندوں میں ہیں۔

اور شاید جب انسان کے اپنے پلان ناکام ہونے لگتے ہیں،
یا اُس کی دعائیں اُس کی بہتری کے لیے پوری نہیں ہوتیں،
تو وہ رب سے ایسے ہی منہ موڑ لیتا ہے۔

انسان تو بس نافرمانی کے لیے موقع اور بہانے ڈھونڈتا ہے۔۔۔

*****

زوال کا وقت تھا جب آسمان نیلی روشنی میں ڈوبا تھا اور سورج سر جھکائے اُٹھنے کو تیار تھا مگر بارش نے سختی کر دی تھی۔
اُس نے کھڑکی کے پینلز سے فجر کا وقت ختم ہوتے دیکھا، باہر جانے کے لیے سر پر پڑا دوپٹہ جو کچھ دیر پہلے نماز میں کس کے باندھا تھا وہ ہٹایا اور اپنی کمر سے آتے بھورے بالوں کو جُوڑے میں لپیٹا۔
وہ صرف بال نہیں تھے بلکہ اُس کا خزانہ تھے۔
تم اگر اُس کے بال دیکھ لو تو ایک بار اُسے چھونے کو ضرور دل چاہے گا اور نفاست سے کٹے کرٹین بینگز چہرے کے اطراف میں پڑے حسن اور بڑھا رہے تھے۔
دھیمے سے اُس نے اندرونی دروازے کے سارے لاکس کھولے اور دھیمی آہٹ سے جیسے ہی باہر آئی، اُس کے جسم پر ٹھنڈی ہوا پھُوار بن کر برسی۔
اُس کی نوز رنگ سے سجی ناک میں گلاب کے تازہ سُرخ پھولوں کی خوشبو نے موڈ اور خوشگوار کیا تھا۔
گھاس پر پاؤں رکھتے ہی بارش کے ننھے قطرے زمین سے اُس کے پاؤں میں محسوس ہوئے۔
اُس نے آسمان کو دیکھا اور اللہ کا شکر کیا۔
زندگی کچھ عام سی محسوس ہونے لگی تھی۔
کتابوں کا ڈھیر اب ردی میں تھا۔
نوٹس کہاں رکھے ہیں، اب پرواہ نہیں تھی۔
ٹوپِکس کور کرنے سے کتنے رہ گئے، اُسے ہوش نہیں تھا۔
اُسے تو اب سب عام لگ رہا تھا۔
زندگی جتنی غیر آرام اُس کے لیے تھی، اب شاید خیالوں نے کچھ اور سکون اُس کے اندر تک اُتار دیا تھا۔
یہ آغاز تھا ایک نئی شروعات کا۔
ایک آزمائش سے نکل دوسری آزمائش کا۔
یا تو عروج سے زوال تک کا… یا زوال سے پھر زوال تک کا، کیونکہ عرصہ ہوا تھا کہ اُس نے عروج دیکھنا ہی چھوڑ دیا تھا۔

جون کے آخری دن تھے یعنی برسات کا آغاز۔
اُسے برسات جتنی پسند تھی اتنا ہی اُسے بُرا وقت شدتوں سے یاد آتا تھا۔
ہر بارش اُس کے آنسوؤں کی گواہ جو بنی تھی۔
مگر اب کم یاد آتا تھا کیونکہ وہ زِمل تھی۔
کیونکہ وہ زندگی تھی… اور سب سے بڑی بات کہ وہ زندہ تھی۔
اور اگر تم بس زندہ ہو، تو وہی تمہیں شُکر کرنے کا سبب دے دیتا ہے۔
اور وہ تو پھر خوش بھی تھی، تو وہ ناشکری ہو کر خود پر ڈھیروں لعنت بھیج دیتی۔

بارش کی ننھی بوندے اُس کے خُردارے ہونٹوں میں جذب ہوئی تھیں۔
اُس کے ہونٹ کبھی بھی چَھپڈ نہ ہوں ایسا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ چاہے خالی بیٹھی ہو یا پریشان ہو یا کچھ سوچ رہی ہو... بے دھیانی میں وہ انہیں چباتی رہتی تھی، اُسے عادت تھی اور یہاں تک کہ وہ خون بھی نکال دیتی تھی اور اسٹریس والے دنوں میں اُسے اپنے خود کے ہونٹ محسوس ہی نہیں ہوتے تھے۔ مگر اس کے باوجود بھی وہ بُرے نہ تھے۔
وہ بارش کا مزہ لے ہی رہی تھی کہ اپنے کان کے نیچے کچھ محسوس ہوا...
کچھ دیر پہلے والا سکون غائب ہو کر عجیب سا خوف سِمَٹ آیا اور وہ کسی پاگل کی طرح اپنی گردن کو جھاڑ رہی تھی جیسے کچھ رینگ رہا ہو۔
مگر لمس نیا نہیں تھا، پُرانا تھا۔

۔۔۔ جیسے ہی اُسے یقین ہوا کہ کچھ نہیں ہے، وہ نارمل ہونے کی کوشش کرنے لگی۔

وہ ایسی ہی تھی... خوف کو طاری نہیں ہونے دیتی تھی کہ خود خوف کو بھی اُس سے خوف آئے۔
وقت نے اُسے اُداس نہیں، عذاب بنایا تھا۔

اُس نے گیلے بالوں میں انگلیاں پھیریں اور واٹس ایپ کھولا، اور سب سے اوپر "رحمانیہ سینٹر آف اسلام" نامی
گروپ کا اپڈیٹ دیکھ کر اُسے چیک کیا۔

اور اُس کی آنکھوں میں ڈھیر سارا اشتیاق اور خوشی یکدم آ بیٹھی۔

رحمانیہ ایک انٹرنیشنل سعودی بیسڈ اسلامی ادارہ تھا جو اُس نے جوائن کیا تھا، جو دہلی میں ایک سیمینار ہوسٹ کر رہا تھا جس میں جوان والنٹیئرز کو موقع دیا جا رہا تھا، جس میں اپنی من پسند آیت پر تدبر کا موقع دیا گیا تھا، جس میں اُس نے بھی اپنا نام درج کیا تھا اور اپنی ایک آیت پر کیا گیا تدبر پیش کیا تھا اور وہ سلیکٹ ہو گئی تھی۔

اُس کے لیے یہ اعزاز کی بات تھی کیونکہ اتنے لوگوں میں صرف 8 والنٹیئرز کو ہی بولنا تھا اور وہ اُن میں سے پہلی تھی۔
وہ خوش تھی، بے حد خوش۔

اُسے موقع مل رہا تھا کچھ ایسا کرنے کا کہ وہ اللہ کی نظروں میں آ جائے۔
وہ گھنٹوں بول سکتی تھی کسی بھی آیت پر، اور اب تو اُسے ایسا پلیٹ فارم مل رہا تھا جہاں وہ ہمیشہ کے لیے اُس منظر کو محسوس کر لے گی۔

اُسے صدقہ جاریہ کرنے کا اتنا بڑا موقع مل رہا تھا۔
سحر صحیح کہتی ہے کہ اُس کے الفاظ لوگوں کے دلوں میں اُترتے ہیں... یا تو قائل کرتے ہیں یا مائل۔

*****///*/

اُس نے اپنی لمبی مگر بے حد سفید خوبصورت انگلیوں سے کھٹاکھٹ ٹائپ کرتے ہوئے ایک نوٹیفکیشن کھولا اور کسی سیمینار کی شرکت کا دعوت نامہ کھولا، جس میں اُسے گیسٹ آف آنر بن کر دعوت دی جا رہی تھی۔

اُس نے دیے گئے کانٹیکٹ نمبر پر کال کی اور ساری تفصیلات لے کر حامی بھر دی۔
انڈیا میں بہت کم اچھے اسلامی ایونٹس ہوتے تھے جن میں اچھے موضوع پر بات کی جائے اور رحمانیہ ادارہ سعودی کا تھا تو انکار تو اُس کے سعودیہ کی بے عزتی ہوتی!

اُس نے شیان کی آنے والی کال وصول کی اور اُس کے چہرے پر یکدم مسکراہٹ نے جگہ لے لی۔

وہ اُس کا اکلوتا یار تھا، جو زندگی میں اعتبار بن کر آیا تھا نہ کہ عذاب بن کر۔


Write a comment ...

Write a comment ...

PariZa Gul

I write soft romance Urdu novels both in Urdu and Roman Urdu for indian readers YouTube : pari_za_gul Instagram :pari_za_gul Wattpad :pari_za_gul