02

Baab 2


📖 باب 2: بلند راستہ

از قلم: پری

وہ لان میں موجودہ بینچ پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ شام کا وقت تھا اور بارشاتی مچھروں نے اس کا خون چوسنے کی ٹھان لی تھی۔۔۔ اس کے ہاتھ میں اس کا گلابی اسپائرل والا رجسٹر تھا جسے اس نے کسی کی آمد پر بند کر دیا تھا۔

"ہیلو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، گڈ ایوننگ اینڈ ہائے زمل ڈارلنگ باجی!"

ایک ہی سانس میں بہت بچگانہ انداز میں اُس آٹھ سالہ بچے نے اُسے مخاطب کیا۔۔۔ جس کے آگے کے دو دانت غائب تھے اور دھوپ میں بدمعاشیاں کرنے سے رنگ سانولا ہو گیا تھا۔

"وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، ہیلو ہائے، گڈ ایوننگ۔۔۔ آفٹر نون، ٹاٹا، بائے بائے، اللہ حافظ!"

زمل نے شرارتی انداز میں اُسے دل جلانے والی بات کر دی تھی۔

"باجی! تم کو تو ہمارا ہارٹ وارمنگ ویلکم کرنا چاہیے کہ پوری گلی کا سب سے سگما بوائے تمہارا دوست ہے!"

اُس نے آنکھیں گھما کر کہا۔
زمل نے اُسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور کہا:

"پہلے جاؤ اور اپنی ممی سے ڈائپرز چینج کرواؤ، اور یہ باربی والا پاجامہ تمہاری بہن کا ہے نا؟"

اُس نے چڑایا۔

"باجی! میرا آورا خراب نہ کرو، مجھے غصہ آیا تو میں اپنی بندوق سے تمہارا گھر اُڑا دوں گا!"

اُس نے انگلی دکھاتے ہوئے کہا۔

"چپلی کباب جیسی شکل کے۔۔۔ کہیں اور جا کر ٹوائے گن سے ڈراؤ، اگر میں نے اپنی نکالی تو تمہارا باربی پاجامہ وائرل کر دوں گی!"

"او ہو زمل ڈارلنگ! تم تو ڈر گئی۔۔۔ اب اگر میں تم سے مذاق نہیں کروں گا تو کس سے کروں گا؟"

بچہ کم بچہ واقعی ڈر گیا تھا کہ ڈیرنگ زمل وائرل ہی نہ کر دے۔

"بولو، کیا کام ہے؟"

"کام تو کچھ نہیں ہے۔۔۔ بس تمہیں ایک گُڈ نیوز سنانی تھی!"

"بیٹا جہاں تُو ہوتا ہے وہاں گُڈ نیوز نام کی چیز سنیاس پر چلی جاتی ہے۔۔۔ اب جلدی بتاؤ۔۔۔ میرا وقت ضائع نہ کرنا!"

"گڈ نیوز ہے کہ میں کلاس میں آیا ہوں!"

اُس نے فخر کے انداز میں کہا۔

"کیا آئے ہو۔۔۔ فرسٹ؟"

"اوہ نہیں باجی۔۔۔ میں سیکنڈ کلاس سے تھرڈ میں آیا ہوں، وہ بھی بڑی مشکل سے۔۔۔ مادرجی نے ایگزام کی چاند رات والے دن جو چھترول کر کے پڑھایا تھا، وہ مار وصول ہو گئی!"

ڈھیروں معصومیت لیے وہ اُسے بتا رہا تھا۔

زمل نے منہ بنایا اور بولی:

"چلو! تم اب اپنی حرکات کی بنیاد پر صحیح کلاس میں پہنچے ہو سم کارڈ۔۔۔ تھرڈ کلاس!"

آخری جملہ ادا کرتے ہوئے وہ خود مذاق اُڑانے کے انداز میں ہنس دی تھی۔

"سم کارڈ نہیں، مسٹر ہادی سِماعَد!"

وہ چڑتا ہوا بولا۔
"ہاں ہاں، مسٹر ہادی سم کارڈ!"
وہ اُس کے سرنیم سِماعَد کو سم کارڈ بلایا کرتی تھی اور وہ بچہ پوری سوسائٹی میں سم کارڈ کے نام سے مشہور تھا۔


ہادی آس پاس کے گھروں کے بچوں کا الفا تھا۔
وہ خود کو کسی مافیا گینگ کا لیڈر مانتا تھا اور اپنی بچوں کی پلٹن کا بھی نام دیا تھا:
"دی گلی گاڈ فادرز"

جس میں ایک بلال عرف بِلّو، ابراہیم عرف ابو بابا اور سائم مریض شامل تھے، جس کا ہمیشہ پٹّی اور چوٹوں سے واسطہ ہوا کرتا تھا۔

زمل، ہادی کی فیورٹ تھی کیونکہ وہ اُسے بہنوں کی طرح لاڈ، پیار اور چھیڑ چھاڑ کرتی تھی۔

ان کے بینٹرز (چھیڑ چھاڑ) پورے محلے کو پتا تھے۔
بلکہ ان پانچوں مچو (یعنی خود کو بڑا سمجھنے والے بچوں) کا ایک واٹس ایپ گروپ بھی تھا جس میں سب سے فضول سگما فوٹوز اور ریلز شیئر کر کر کے انھوں نے زمل کا دماغ گھما دیا تھا۔

اور جس دن ہادی اپنا دیدار زمل کو نہ کراتا،
اُس دن زمل گروپ میں میسج ڈالتی:

"آج میرے کندھوں پر دونوں فرشتے پارٹی کر رہے ہیں کہ فائنلی سم کارڈ آیا نہیں!"

زمل ایسی ہی تھی۔۔۔

ایک سن شائن پرسنالٹی رکھنے والی۔
ہمیشہ خوش اور پازیٹو۔
تم نے پہلا تعارف پڑھ کر یہی مانا ہوگا، ہے نا؟

مگر مہرالنسا شمعیر کہتی ہیں کہ:

"انسان وہ نہیں ہوتا جو اُس کا پہلا تعارف ہو۔"

اور تم اس بات پر یقین لے آؤ کیونکہ پہلا تعارف انسان اپنے مطابق دیتا ہے۔۔۔
ویسا جیسا وہ چاہتا ہے کہ لوگ اُسے سمجھیں اور مانیں۔

دنیا میں کوئی بھی سن شائن پرسنالٹی اور خوشیاں بانٹنے والا نہیں ہوتا۔
سب اپنی کہانی کے ہیرو بھی خود ہوتے ہیں اور ولن بھی۔

کیونکہ۔۔۔
کیا تم نے فرشتے کھلی آنکھوں سے زمین پر دیکھے ہیں؟

کوئی بھی انسان نیک اور بے گناہ نہیں ہوتا، کیونکہ اگر ہوتا تو فرشتہ نہ ہوتا!

سب کی ایک گریے سائیڈ ہوتی ہے جسے وہ دنیا سے چھپا کر رکھتے ہیں۔۔۔
سب کی!

مگر غیب کا علم صرف خالق کو ہوتا ہے
اور خالق تو اُن کی رگ رگ سے واقف ہے۔

ہمیشہ یاد رکھنا:

"First impression is not the real impression."


"عبدالنور شیرانی"
ایک پچیس چھبیس سالہ مرد نے اُسے پکارا۔

عبدالنور اُسے دیکھ کر دھیمے سا مسکرا دیا
اور سر کے خم سے اپنا عبدالنور ہونا بتایا۔

نوجوان لڑکے کی آنکھوں میں ڈھیر سارا پیار اور اپنا پن آ بیٹھا۔
وہ زور سے آ کر گلے لگ گیا۔

عبدالنور اُس کی قوت سے اپنا توازن کھوتے کھوتے بچا تھا
اور پھر اتنی ہی گرمجوشی سے اُس سے ملا۔

"او خدایا! ہم کو تم سے مل کر بہت خوشی ہوا، میرے بھائی!"

نوجوان گرمجوشی سے اپنے
پشتونی لہجے میں اُسے بتا رہا تھا۔

"مجھے بھی، گلستان خان!"
وہ اپنے نرم، شائستہ لہجے میں مخاطب ہوا۔

"نورے! ہم تم کو دیکھ کر بہت فخر محسوس کرتا ہے دوست۔۔۔
تمہیں اللہ ایسے ہی ترقی دے۔۔۔ کون تمہیں نہیں جانتا ہے!"

گلستان خان نے پیار بھرے لہجے میں اپنے احساسات کھولے۔

"مجھے بس اپنے لوگ یاد رکھتے ہیں، بس وہی کافی ہے۔۔۔ جیسے تم!"

بھاری مردانہ، پر وقار آواز
گلستان خان کے کانوں میں گئی
اور اُس کے منہ سے بے اختیار "ماشاءاللہ" نکلا تھا۔

وہ آواز جو کوئی سُن لیتا، وہ دیوانہ ہو جاتا۔۔۔

گلستان خان اور نورے کی بات کبھی ختم نہ ہونے والی گفتگو
ایک کریو ممبر کے پکارے جانے پر رُکی۔

عبدالنور کے شو کا وقت ہو گیا تھا۔

وہ پبلک اسپیکر تھا۔۔۔
عوام کو اپنی باتوں میں پاگل کر دینے والا۔۔۔
کچھ زیادہ ہی سچ بول کر شرمسار کر دینے والا۔۔۔
لفظوں سے سکون دینے والا۔

ایک بیک اسٹیج بوائے نے اُس کی پشت میں ایک مائیک فِٹ کیا
اور وہ اسٹیج کی طرف روانہ ہو گیا۔

آج بھی اُتنی ہی بھیڑ تھی جتنی ہمیشہ ہوتی تھی۔۔۔
اُتنے ہی کیمرے، مال و اسباب جو اُس کے فینز کے لیے تھے
جو آ نہیں سکتے تھے۔

اُس کی دھڑکن زوروں سے چلنے لگی تھی۔۔۔
یہ بات بھی نئی نہیں تھی۔۔۔
وہ لمبا سانس لے کر دھیمے سا مسکرایا۔

آڈینس میں تیز آوازوں سے سرگوشیاں سنائی دے رہی تھیں۔۔۔
کچھ لوگ آج ہونے والے جینرے اور ٹاپک کو گیس کر رہے تھے
تو کچھ لوگ اپنے ساتھ لائے دوستوں اور فیملی ممبرز کو مخاطب کر رہے تھے۔

"السلام علیکم"

کانوں میں شہد سے پڑھنے والی پر وقار آواز آڈینس تک پہنچی
اور یکدم خاموشی اور سناٹا ہو گیا۔

سب کا جیسے سانپ سونگھ گیا ہو!

جو پُرانی آڈینس تھی وہ جانتی تھی کہ
اب انھیں کچھ نہیں بولنا، صرف خاموش رہنا ہے اور سُننا ہے۔

اور جو نئی آڈینس تھی وہ پرانی آڈینس کے مشورے کے مطابق
خاموش تھی اور سرگوشی کرنے کی ہمت نہیں کر سکتی تھی۔

"اگر میں آپ سے پوچھوں کہ آپ میں سے کتنے لوگ بلندی چننا چاہتے ہیں تو سب کے ہاتھ کھڑے ہوں گے!"

وہ بولا مگر مسکراہٹ اب بھی قائم تھی۔

"تو بلندی ہے کیا جس کے لیے آپ ہاتھ اٹھائیں گے؟

کوئی فیمس ہونے کو بلندی مانے گا،

کوئی جینیئس ہونے کو...

کوئی امیر ہونے کو...

یا یوں کہو کہ جس کے پاس جو نہیں ہوگا وہ اُسی کو ہی بلندی مان کر اپنے گولز سیٹ کر لے گا...

اپنے اسٹینڈرڈز کو وہیں تک محدود رکھے گا...

رائٹ؟"

تمام لوگوں کے سر بےاختیاری میں ہاں میں ہلے۔

اس بار اُس نے کچھ عجیب طرح کا مسکرایا۔

پرانی آڈینس پہچانتی تھی کہ یہ مسکراہٹ کس کے لیے ہے۔۔۔

جب وہ سب کو بے وقوف ثابت کر دیتا تب وہ ایسی ہی مسکراہٹ دیا کرتا تھا۔۔۔

جیسے کوئی ماں اپنے ننھے بچے کی غلطی دیکھ کر ماں بھری مسکان دے کر رہ جائے۔

اب وہ دھیمے لہجے میں ہاتھوں کو ہلا کر بات کر رہا تھا، جیسے وہ پرسنلی کسی کو سمجھا رہا ہو۔

> "**سب کے خود کے راستے ہوتے ہیں۔۔۔

> بلندی کے بھی اور پست کے بھی،

> عروج کے بھی اور زوال کے بھی،

> حلال کے بھی اور حرام کے بھی۔**

> ہر کوئی زندگی میں بھاگ دوڑ کر رہا ہے اور وجہ پوچھو تو کہے گا:

> 'سکون' یا 'بلندی'

> کچھ آخر میں پا لیں گے اور کچھ گنوا دیں گے۔۔۔

> تو پھر فرق کیا چیز پیدا کرتی ہے؟

> طریقہ؟ نہیں!

> سوچ؟ وہ بھی نہیں۔۔۔

> تو پھر کیا؟

> اعمال! ہاں اعمال۔"

آڈینس کو وہ ایسے مخاطب کر رہا تھا جیسے اُن کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اُن کی حالت سمجھ کر نصیحت کر رہا ہو۔

> "**اچھے اعمال بلندیوں کو لے جاتے ہیں۔۔۔ عروج تک۔

> اور بُرے اعمال زوال دکھاتے ہیں۔**

>

> دنیا میں کوئی چیز پرمننٹلی سکون نہیں دے سکتی۔۔۔

> اور پانے کی خواہش اور ہوس، سکون کو غائب کر دیتی ہے۔

> ناشکری جہاں ہوتی ہے اُس دل میں سکون اپنا گھر نہیں کرتا۔

> وقتی سکون دنیا میں مل بھی جائے تو ٹھہرتا نہیں۔۔۔

>

> لوگ سڑک سے اگر کرائے کے مکان میں آ جائیں تو

> خود کا مکان چاہیے۔۔۔ صرف سکون کے لیے۔

> پھر اُس خود کے مکان میں ساری لگژری ہو،

> گدوں سے فرنشڈ بیڈ، پھر کولر سے اے سی، یا موٹرسائیکل سے گاڑی۔۔۔

>

> اگر زندگی میں سب مل بھی جائے

> تو اُسے کیسے بچانا اور سنبھالنا ہے؟

> اُس کی بے چینی۔۔۔

> اور مرنے کے بعد اُس کا کیا ہوگا؟ اُس کی بے چینی۔۔۔

>

> آپ ایک پوری زندگی صرف میٹیریئلسٹک چیزوں کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں

> جس کا الٹی میٹ گول سکون ہوتا ہے

> اور آخر میں وہ بھی نصیب نہیں ہوتا۔۔۔

>

> اور جب آپ مر جاتے ہیں تو جہنم میں پچھتاوے کے سوا کیا ہوگا؟

> آپ نے سب کچھ گنوا دیا ہوگا

> اُس قیمتی وقت کو

> آخرت کا اثاثہ بنانے کے بجائے

> آپ نے ایک لاحاصل آسائش پر گنوا دیا۔

>

کیا ہوگا آپ کے پاس؟

دولت؟

اولاد؟

آسائشیں؟

رشتے؟

صرف اعمال!"


اگر دنیا کی بلندیاں تمہیں عروج لگتی ہے تو تم غلط ہو یا پھر تم نے عروج کے صحیح معنی نہیں پڑھے
دنیا تو وہ ٹریپ ہے جو زوال سے پہلے عروج کا ڈھونگ ہے
اصل عروج تو وہ ہے جو سدا کے لیے ہو
جس کی آمد سکون لائے... کبھی ختم نہ ہونے والا سکون
اور وہ کہاں ہے؟ دنیا میں تو نہیں ہے بے شک!
وہ صرف جنت میں ہے!
کبھی فرصت ملے ناشکری کرنے سے تو نظریں گھما کر دیکھنا کہ دنیا ختم ہوتی جا رہی ہے اور تم خالی ہاتھ ہو... تمہارے اعمال تمہارا ساتھ نہیں دیتے اور تمہاری انا اب تک لباس بنی گھوم رہی ہے
غرور اور انا زوال کا پہلا سبب ہوتی ہے
عزازیل کا ابلیس تک کا سفر بھی انہی دونوں نے طے کیا تھا
مگر ہم ہر بار ابلیس نہیں ہوتے، بعض دفعہ ہم ابنِ آدم بھی ہوتے ہیں
یعنی عام
عام خواہشیں... عام چاہتیں اور عام زندگی... یہی زوال لے کر آجاتی ہے
مگر ہمارا زوال خواہشیں یا چاہتیں نہیں لاتیں کیونکہ آدم کا زوال تو کبھی ہوا ہی نہیں تھا
لوگ کہتے ہیں کہ آدم کی خواہش ہی سزا بنی تھی اور سزا کے طور پر ہی انہیں دنیا میں اتارا گیا تھا مگر کیا یہ وجہ تھی؟" اُس نے زور دے کر پوچھا جیسے سوال کر رہا ہو

"نہیں! یہ تو بس غلطی تھی... زوال نہیں
زوال تو تب ہوتا جب آدم علیہ السلام گناہ کو نہ مان کر اللہ پر الزام ڈالتے کہ اللہ نے یہ پہلے سے طے کیا تھا بالکل ابلیس کی طرح
دنیا میں آ جانا سزا نہیں تھی
کیا تم بھول گئے کہ آدم کو مٹی سے آدم کیوں بنایا تھا؟ دنیا میں بھیجنے کے لیے جو ان کے ہونے سے پہلے ہی طے تھا... تب تو انہوں نے درخت سے پھل بھی نہیں کھایا تھا... تو کیا گناہ سے پہلے ہی سزا ہو گئی تھی؟ نہیں... درخت سے پھل کھانا تو کسی ٹریلر کی طرح تھا... ہاں ٹریلر کی طرح... ان کا بہکاوے میں آنا اور نافرمانی کرنا یہ دنیا میں ہونے والی چیزوں کا ٹریلر تھا
ان کی تیاری تھی دنیا میں بھیجے جانے کی
تو جو لوگ کہتے ہیں کہ آدم کے گناہ نے انہیں عرش سے فرش تک لا پھینکا وہ غلط ہیں کیونکہ انہوں نے جو گناہ کیا تھا اس کی اپنے رب سے معافی مانگ لی تھی اور ان کے رب نے معاف بھی کر دیا تھا
مطلب یہ ہے کہ معافی کے بعد سزا نہیں ہوتی اور اگر آدم دنیا میں آئے ہیں تو سزا کی طرح نہیں، جزا کی طرح
زندگی کوئی سزا نہیں ہے بلکہ سفر ہے ایک ایسی منزل کا جو تم نے چاہی ہو
زندگی بوجھ یا لعنت نہیں ہے بلکہ خدا کی نعمتوں کا چہرہ ہے
اگر وہ تمہیں بغیر آزمائش اور پریشانی کے جنت دے دیتا تو تم تو بے چینی سے واقف ہی نہ ہوتے اور کیسے پتا ہوتا کہ نعمت کیا ہے
جب تک چیز کو کھو نہ دیں تب تک اس کی موجودگی کا احساس نہیں ہوتا
یہ انسان کی فطرت ہے اس لیے ہر نعمت کھونے کے بعد ہی قیمتی لگتی ہے
نہ تم دنیا میں آتے اور نہ تمہیں پتہ چلتا کہ بیمار ہو کر تندرست ہونا کیا ہے
یا غربت دیکھ کر آسائش کیا ہے
بے اولاد ہو کر اولاد ملنا کیا ہے
سب نعمتوں سے ترک ہونا ہی اصل سزا ہے
جنت تو اجر ہے
سب آزمائشوں کو پار کرنے کے بعد کا اجر
یہاں کتنے لوگ ایسے ہوں گے جو ڈپریسڈ ہوں گے... جنہوں نے اپنی جان لینے کا بھی سوچا ہو گا اور کچھ نے تو کوشش بھی کی ہو گی
مگر کبھی سوچا ہے کہ تمہارے اعمال کیا اتنے اچھے ہیں کہ تم طے وقت سے پہلے جان لے لو اور جس وجہ سے ڈپریس ہو اُس سے آزادی پا لوگے... یہ بے وقوفی ہے
تم ایک جہنم سے نکل کر خود ہی دوسرے کا بندوبست کر رہے ہو
جو آزمائش دی گئی ہے وہ واپس بھی لے لی جائے گی مگر اپنے موجودہ وقت پر
شاید کوئی آزمائش دی ہی نہ گئی ہو اور تم نے خود اسے اپنے آپ بنا لی ہو
میں جب کسی ڈپریسڈ انسان سے بات کرتا ہوں تو وہ کہتے ہیں کہ "I just can't take it anymore" یعنی ان کی بس ہو گئی ہے
اگر واقعی ان کی بس ہو گئی ہوتی تو آزمائش ختم ہو جاتی
کیونکہ آپ کو آپ کی پوٹینشل سے زیادہ آزمایا ہی نہیں جاتا
آپ کو چاہیے کہ آپ شکر کریں
مضبوط بنیں
خود کو مصروف رکھیں
اور دیکھیں کہ آپ کی آزمائش اجر سے بڑی نہیں ہے
جو لوگ کہتے ہیں کہ I can't take it anymore اور زندگی ختم کر کے آزمائش ختم ہو جائے گی
ان کے لیے میں کہوں گا کہ آزمائش ختم ضرور ہو گی مگر سزا شروع ہو جائے گی
کائنات میں جو بھی چیز بے وقت کرنے کی کوشش آزمائی گئی ہے وہ ہمیشہ تباہی لائی ہے
ہر چیز مقرر وقت پر ہو گی اور جو نہ ہو وہ غلط ثابت ہو گی
جس آزمائش سے آپ لوگ بھاگتے ہیں کیا آپ کو پتہ ہے کہ آپ کو اس کا ہونا معلوم تھا؟"
سب سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے
"جی ہاں... عالمِ ارفع یعنی جہاں ہماری روح رہتی تھی سورہ الاعراف میں آیت نمبر 172
میں ایک ایسے عہد کی بات کی گئی ہے جو اللہ نے ہم سب روحوں سے لیا تھا
بڑے اسکالرز کا ماننا ہے کہ ہمیں ہماری آزمائشیں یعنی دنیا میں ہونے والی ہر چیز دکھائی گئی تھی اور پھر جنت دکھائی گئی تھی اور پوچھا تھا کہ جنت چاہیے یا نہیں، اور جنہیں چاہیے تھی انہوں نے سبھی آزمائشوں کے لیے ہامی بھر دی تھی
آپ نے اپنے حصے کی آزمائشیں دیکھ کر اور جنت کو دیکھ کر فیصلہ کیا تھا کہ آپ کو جنت چاہیے
تو سوچیں کہ جو چیز کے لیے آپ دنیا میں آنے کے لیے تک تیار ہوئے وہ آخر کتنی ورتھ اِٹ ہو گی"
"اور جنہوں نے آزمائش دیکھ کر منع کیا" ایک کم عمر خاتون کی آواز گونجی
"اللہ بہتر جانتا ہے میس"
اس نے بہت نرمی سے جواب دیا اور کنٹینیو کیا
"تو کون ہوتا ہے فاتح؟
کون اس راستے کو پار کرتا ہے؟ زندگی میں جو اپنا پرپز ڈھونڈ لیتے ہیں اور صحیح راستے کی طلب کرتے ہیں وہی فاتح ہوتے ہیں... اُس کے لیے آپ کو ایکسٹرا آرڈنری یا جینئس نہیں ہونا ہوتا یا پھر امیر یا غریب نہیں ہونا ہوتا
بس انسان ہونا کافی ہوتا ہے
اور جو لوگ خود کو انسان مان لیتے ہیں یعنی انہوں نے خود کو بچا لیا!
ہاں انسان مان لینا ہی خود میں ایک فتح ہے
کیونکہ سب سے پہلے تو وہ غرور کرتا ہے اور بھٹکتا ہے جو خود کو انسان ہی نہیں مانتا
انسان مطلب گناہگار
جو خود کو گناہگار نہیں مانتا وہ خود کو انسان نہیں مانتا
انسان مطلب طلبگار جسے موڑ موڑ پر رب کی ضرورت ہو
انسان مطلب لا علم جسے علم بھی تبھی ملتا ہے جب اللہ چاہے
انسان مطلب حقیقت پسند جو زندگی کو ایور لاسٹنگ نہیں سمجھتا اور نہ ہی خود کو امر سمجھتا... نہ غرور کرے اور نہ تکبر
غرور اور تکبر سے کیسے بچتے ہیں؟
جب ہمیں پتہ ہو کہ ہم سے بلند ذات بھی موجود ہے اور ہماری ذات ایک دھول کے قطرے برابر بھی نہیں ہے
انسان مطلب با مقصد جو اپنا دنیا میں آنے کا سبب جانتا ہو
اور جو خود کو انسان نہیں سمجھتے وہ خود کو زمینی خدا سمجھتے ہیں
فرعون سمجھتے ہیں
مگر ہر فرعون کی بادشاہت جہنم کی آگ میں سلگی ہے اور ہر زمینی خدا کا زوال دنیا نے دیکھا ہے
فرعون کبھی بلندیاں چھو ہی نہیں سکتا کیونکہ فرعون کی جگہ نیچے ہے... پہلے گہرے سمندر میں اور پھر جہنم میں
تو بلندیوں کو چھونے کے لیے خود کو انسان مان لینا پہلا قدم ہوتا ہے"
اس نے سر کے خم سے شکریہ کیا اور ہال تالियों سے گونج گیا
ہر بار کی طرح آڈینس آج بھی مطمئن تھی
ہر کسی کو ان کے مطلب کی بات سننے کو ملی تھی
جو وہ لمبے وقت تک غور کرنے میں بِتا دیتے
وہ چلا گیا تھا مگر اپنا عکس سب کے اندر چھوڑ گیا تھا
وہ بھولے جانے والوں میں سے نہیں تھا
اسے بھولا ہی نہیں جا سکتا تھا
کیونکہ وہ عبدالنور شیرازی تھا
ایک 23 سالہ مردانہ جثے رکھنے والا شخص... جو اسے کبھی بھولنے نہیں دیتی تھی وہ اس کی سرمئی بڑی بڑی گہری آنکھیں تھیں
اس کی شارپ جالائن اسے بے حد پرکشش اور حسین بناتی تھی... ہلکی ہلکی شیَو... باریک ہونٹ اور کھڑی ناک
اس کے سبھی نقوش ایسے تھے جو اسے یاد رکھنے پر مجبور کر دیتے تھے
وہ بلا شبہ ہینڈسم تھا... یا بہت زیادہ ہی ہینڈسم تھا


Write a comment ...

Write a comment ...

PariZa Gul

I write soft romance Urdu novels both in Urdu and Roman Urdu for indian readers YouTube : pari_za_gul Instagram :pari_za_gul Wattpad :pari_za_gul